سلسلہ عالیہ سروریہ قادریہ کے بزرگ حضور سلطان الفقر دوئم امام خواجہ سلطان حسن بصری رضی اللہ عنہٗ

سلسلہ عالیہ سروریہ قادریہ کے بزرگ حضور سلطان الفقر دوئم امام خواجہ سلطان حسن بصری رضی اللہ عنہٗ

اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے بعد فقرِ خاص الخاص کا مرتبہ سلطان الفقر دوم حضرت امام خواجہ سلطان حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کو تفویض ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کو امانتِ فقر و خرقہ خلافت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے منتقل ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے خلفاء میں جلیل القدر مرتبہ حاصل ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فقرِ خاص الخاص کو امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچانے والا واسطہ اور وسیلہ ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہٗ کا نام مبارک حسن، کنیت ابو محمد، ابو سعید، ابو نصر اور ابو علی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے والد کا نام حسبِ روایت یسار تھا اور وہ حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہٗ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ کا نام خیرہؓ تھا اور وہ اُم المومنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی پرورش حضرت امِ سلمہؓ ہی کے بابرکت ہاتھوں میں ہوئی اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ کی رضاعت بھی فرمائی۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی پیدائش 21ھ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے عہد میں مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے حضور میں لائے گئے تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ کو نہایت خوبرو دیکھ کر فرمایا کہ یعنی ”یہ حسین ہے اس لیے اس کا نام حسن رکھو”۔ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہٗ نے آپ رضی اللہ عنہٗ کے حق میں دعا فرمائی کہ ”اللہ تعالیٰ اس کو دین کے علم کا ماہر بنا اور لوگوں میں محبوب بنا” جو بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہٗ کو علمِ دین اور فقر میں بلند مرتبہ عطا ہوا۔

حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی پرورش و تربیت اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے ان کی قربت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بالواسطہ صحبت کا فیض حاصل کیا اور انہی صحابہ کرامؓ خصوصاً حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ اور ان کے علاوہ حضرت امام حسن مجتبیٰ اور حضرت محمد حنفیہ رضی اللہ عنہم سے فیضِ کامل پایا اور دین کا ظاہری و باطنی تمام علم حاصل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا اپنا قول ہے ”میں نے ایک سو تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت کی ہے جن میں ستر بدری اصحابؓ تھے، لہٰذا تابعین میں حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔

آپ رضی اللہ عنہٗ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بیعت سے مشرف ہوئے اور ان سے خرقہ فقر پایا۔ شاہِ ولایت امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضرت حسن بصریؓ کو وہ خرقۂ خاص مع کلاہِ چہار ترکی عنایت فرمایا جو انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عطا ہوا تھا اور ساتھ ہی اپنی نگاہِ فقر سے ظاہری و باطنی علومِ اسرارِ الٰہیہ عطا کر کے خلافتِ کبریٰ سے نوازااور ذکرِ کلمہ طیبہ بطریق نفی اثبات جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حاصل ہوا تھا، وہ آپؓ کو سکھایا اور آپؓ کے ذریعہ سے وہ طریقہ تمام دنیا میں رائج ہوا۔ (سیر الاولیاء’ سیر الاقطاب)۔

حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے بہ اجازت و خلافتِ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اُن تمام سلاسلِ طریقت و تصوف کا نظام قائم کیا جو ساری دنیا میں وصال و معرفتِ الٰہی کے لیے آج تک رائج رہے ہیں۔ سلسلۂ قادریہ ہو یا سہروردیہ، چشتیہ ہو یا نظامیہ، رفاعیہ ہو یا شازلیہ، المغربیہ ہو یا کلابیہ، تمام سلاسل بالآخر جا کر حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے ہی توسط سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ملتے ہیں، سوائے سلسلہ نقشبندیہ کے جو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہٗ کے توسط سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے ملتا ہے۔

باوجود اس حقیقت کے کہ تمام سلاسلِ طریقت مکمل تحقیق و اعتقاد کے ساتھ اپنے اپنے شجرۂ مشائخ کو حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے ذریعے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ ملاتے ہیں، محدثین کے درمیان حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملاقات، خلافت اور سماعِ حدیث پر اختلاف پایا جاتا ہے اور اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ انہیں حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی بیان کردہ ایسی کوئی حدیث دستیاب نہیں ہو سکی جسے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے سن کر اور ان کا نام لے کر روایت کیا ہو۔ اگر محدثین کی اس بات کو درست مان لیا جائے کہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نہ ملاقات ہوئی، نہ ان سے خرقہ خلافت پایا تو تمام سلاسلِ طریقت کا نظام زمین بوس ہو جاتا ہے کہ اگر حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی کڑی بیچ میں سے نکال دی جائے تو کس طرح تمام سلاسل حضرت علی رضی اللہ عنہٗ اور پھر ان سے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچے؟
قرآئن و شواہد کے لحاظ سے بھی یہ بات قابلِ قبول نہیں کہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نہ ملے ہوں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہٗ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہٗ کے دورِ خلافت میں ۲۱ھ میں پیدا ہوئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورِ خلافت ۳۷ھ میں اس وقت بصرہ منتقل ہوئے جب حضرت علیؓ کوفہ منتقل ہو گئے۔ یعنی یہ دونوں متبرک ہستیاں تقریباً سولہ سال ایک ہی مقام مدینہ منورہ میں اکٹھی رہیں، حضرت حسن بصریؓ اسی علاقے میں انہی لوگوں کے درمیان سنِ بلوغت کو پہنچے، انہی صحابہؓ کے ساتھ مسجدِ نبوی میں نماز پڑھتے رہے، حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں دو سال مدینہ میں ہی رہے بعد میں بصرہ منتقل ہو گئے، انکی امامت میں نماز پڑھتے رہے، ان سے خطبۂ جمعہ سماعت کرتے رہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ ملاقات نہ ہوئی ہو اور احادیث کی سماعت نہ کی ہو۔ حافظ مزیؒ تہذیب الکمال میں روایت کرتے ہیں ”جس دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی شہادت ہوئی اس وقت حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ وہاں موجود تھے اور ان کی عمر چودہ سال تھی”۔

قرآئن و شواہد سے ملاقات ثابت ہونے کے باوجود محدثین یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ملاقات ہوئی اور ان سے حدیث بھی سنی تو ان کا نام لے کر روایت کیوں نہ کی۔ اس کے جواب میں امام نسائی، امام جلال الدین سیوطیؒ اور امام مزیؒ سمیت کئی اکابر آئمہ نے نہ صرف تحقیق کر کے ان چند احادیث کو تلاش کیا جن کو حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے روایت کیا بلکہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے اس قول کو بھی تلاش کیا جس میں اس کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کا نام لیے بغیر حدیث کو براہِ راست حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کیوں روایت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا زمانہ نہیں پایا۔ چنانچہ امام مزیؒ تہذیب الکمال میں لکھتے ہیں ”یونس بن عبید اللہ نے کہا کہ میں نے حسن بصریؓ سے پوچھا ”ابو سعید آپ روایت بیان کرتے ہوئے یہ کیوں فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا”حالانکہ یقیناًآپ نے ان کا عہد نہیں پایا تو انہوں نے جواب دیا ”اے بھتیجے تم نے مجھ سے وہ بات پوچھی ہے جو تم سے پہلے مجھ سے کسی اور نے نہیں پوچھی۔ اگر میرے نزدیک تمہاری خاص حیثیت نہ ہوتی تو میں تمہیں بیان نہ کرتا۔ میں جس زمانے میں ہوں وہ تمہارے سامنے ہے (وہ حجاج بن یوسف کا دور تھا)۔ ہر وہ روایت جس میں تم نے مجھ سے سنا کہ میں نے کہا ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا” وہ دراصل حضرت علیؓ بن ابی طالبؓ سے مروی ہے، مگر یہ کہ میں ایسے زمانے میں ہوں جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کا تذکرہ مجبوراً نہیں کر سکتا”۔ ( تہذیب الکمال جلد ۴ صفحہ ۱۲۴)۔
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے خلافت سنبھالتے ہی ایک طرف خارجی ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو دوسری طرف بنو امیہ نے ان کے خلاف طوفان کھڑا کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی فراست یہ دیکھ رہی تھی کہ مستقبل میں ان کا نام لینے والے اور ان کا ساتھ دینے والے ہر شخص کو چن چن کر ختم کر دیا جائے گا جبکہ تقدیر حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ سے علمِ معرفت کی وراثتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک منتقل کرنے کا عظیم کام لینے والی تھی اس لیے اپنے امیر اپنے امام حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے ایما پر ہی حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے ان کا نام لینے سے اس قدر احتیاط برتی ہوگی تاکہ وہ خاموشی، رازداری اور سکون سے اپنے ذمہ واجب الادا فرض سے سبکدوش ہو جائیں اور دشمنانِ اسلام میں سے کسی کو خبر نہ ہو۔ وہ یہی سمجھتے رہیں کہ حضرت حسن بصریؓ کا حضرت علیؓ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ محدثین کو ایسی احادیث دستیاب نہ ہونا جن کو حضرت حسن بصریؓ نے حضرت علیؓ سے روایت کیا اس بات کا ہرگز ثبوت نہیں کہ آپؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے کوئی حدیث روایت ہی نہ کی بلکہ یہ محدثین کی اپنی تحقیق کی کمی اور کمزوری ہے کیونکہ جن محدثین نے خلوصِ نیت سے تحقیق کی انہوں نے ایسی احادیث کو پایا بھی۔
امام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں ایسی ایک حدیث کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ ”ہشیم نے ہم سے بیان کیا کہ یوسف نے حضرت حسن بصریؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، لڑکے سے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، سوتے ہوئے سے جب تک وہ نیند سے بیدار نہ ہو، دیوانہ سے جب تک اس کا جنون جاتا نہ رہے”۔ اسی حدیث کو ترمذیؒ نے بھی روایت کیا ہے اور نسائیؒ ، حاکمؒ نے اس کے حسن ہونے کو ثابت کیا ہے۔

اسی طرح امام نسائیؒ روایت کرتے ہیں کہ ہمیں علی بن حجر نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ان سے حمید نے بیان کیا، وہ حسن بصریؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ”یقیناًجب اللہ تعالیٰ توفیق دے تو وسعت کا مظاہرہ کرو اور ایک صاع گندم وغیرہ کا صدقہ ادا کیا کرو”۔

امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے خواجہ حسن بصریؓ کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے خرقہ حاصل کرنا ثابت کیا ہے اور اس مسئلہ میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا نام ”اتحاف الفرقہ بوصل الخرقہ” ہے۔ اس کے علاوہ سلف سے لے کر حلف تک تمام مشائخ و اولیاء کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خواجہ حسن بصریؓ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بیعت و خلافت حاصل ہے۔
حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے سماعِ حدیث اور ملاقات کے اختلافی مسئلہ پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور حضرت شاہ فخر جہاں فخر الدین دہلویؒ کے درمیان مناظرہ ہوا جو تین دن جاری رہا۔ حضرت محدث دہلویؒ ملاقات کا انکار کرتے رہے اور فخر الدین دہلویؒ ملاقات کے حق میں دلائل دیتے رہے۔ اس سلسلے میں حضرت فخر الدین دہلویؒ نے ۳۵ ایسی احادیث کو جمع کیا جو حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے روایت فرمائیں اور ان احادیث کو ”فخر الحسن” کے عنوان سے ایک مخطوطہ میں تحریر فرمایا۔ بوجہ اختصار ان تمام احادیث اور ان کے حوالہ جات کو تو تحریر نہیں کیا جا سکتا البتہ چند کا حوالہ ذیل میں دیا جا رہا ہے:۔

ابنِ ماجہ، السنن، کتاب الجہاد، باب فضل النفقہ فی سبیل اللہ تعالیٰ جلد ۲ صفحہ ۹۲۲ حدیث نمبر ۲۷۶۱ ‘۔

احمد بن حنبل، المسند، جلد ۱ صفحہ ۱۴۰ حدیث نمبر ۱۱۸۳

امام نسائی، کتاب السنن الکبریٰ، کتاب الصیام، جلد ۲ صفحہ ۲۲۲ حدیث نمبر ۳۱۶۱

حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ تفسیر و حدیث میں امام تسلیم کیے جاتے ہیں۔ علمِ ظاہر و باطن کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہٗ زہد و ریاضت میں بھی کامل تھے۔ سات سات روز بعد روزہ افطار فرماتے اور شب و روز یادِ الٰہی میں مصروف رہتے۔ منقول ہے کہ ستر برس تک سوائے عذرِ شرعی کے آپ رضی اللہ عنہٗ کا وضو نہ ٹوٹا اور آپؓ کبھی بے وضو نہ رہے۔ یہاں تک کہ مرتبۂ کمال تک پہنچے۔ آپؓ خشیتِ الٰہی کے سبب اس قدر گریہ کرتے کہ آپؓ کی آنکھیں کبھی خشک نہ دیکھی گئیں، یہاں تک کہ روتے روتے آنکھوں میں گڑھے پڑ گئے۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کا معمول تھا کہ ہفتہ میں ایک بار وعظ فرمانے کے علاوہ زیادہ وقت تنہائی اور گوشہ نشینی میں گزارتے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا وعظ اکثر دل کے خطروں اور اعمال کی خرابیوں اور نفس کے وسوسوں و خواہشات سے متعلق ہوا کرتا تھا۔ آپؓ کے وعظ میں لوگوں کی کثیر تعداد شریک ہوتی جن میں اپنے وقت کے تمام علماء و اولیاء شامل ہوتے۔ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا بھی آپؓ کے مواعظ سے اکتسابِ فیض کرتیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ کا ذکر حضرت امام باقرعلیہ السلام کے سامنے ہوتا تو وہ فرماتے ”حسنؓ کا کلام انبیاء علیہم السلام کے کلام کے مشابہ ہے”۔ حضرت بلال بن ابی بردہ رضی اللہ عنہٗ فرمایا کرتے تھے ”میں نے حسن بصری رضی اللہ عنہٗ سے زیادہ کسی کو صحابہ کرامؓ سے مشابہ نہیں پایا”۔
ایک شخص نے کسی بزرگ سے سوال کیا کہ حسن بصریؓ کو ہم لوگوں پر کس وجہ سے بزرگی اور سرداری ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ”تمام مخلوق اس کے علم کی حاجت مند ہے اور اس کو سوائے خالق کے کسی کی حاجت نہیں۔ دین میں سب اس کے محتاج ہیں، اس سبب سے وہ سب کا سردار ہے”۔ (ازالۃ الخفا۔جلد سوم)۔

حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے بہت سے خلفاء ہوئے ہیں جن میں شیخ عبدالواحد بن زیدؒ اور حضرت شیخ حبیب عجمی ؒ زیادہ مشہور ہیں اور ان کے فیضِ تربیت سے تصوف کے چودہ بڑے خانوادے (سلاسل) وجود میں آئے۔ حضرت شیخ عبدالواحد بن زیدؒ سے پانچ خانوادے یعنی سلسلہ زیدیہ، سلسلہ عیاضیہ، سلسلہ ادھمیہ، سلسلہ ہبیریہ، سلسلہ چشتیہ اور حضرت شیخ حبیب عجمیؒ سے نو خانوادے یعنی سلسلہ عجمیہ، سلسلہ طیفوریہ، سلسلہ کرخیہ، سلسلہ سقطیہ، سلسلہ جنیدیہ، سلسلہ گاذرونیہ، سلسلہ طوسیہ، سلسلہ سہروردیہ، سلسلہ فردوسیہ جاری ہوئے۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے امانتِ فقر حضرت شیخ حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل فرمائی۔ آپؓ کا وصال 4- محرم الحرام ( 8-اپریل 729ء) بروز جمعتہ المبارک کو 111ھ ہوا۔ آپؓ کا مزار پُر انوار بصرہ (عراق) سے نو میل مغرب کی طرف مقام زبیر پر واقع ہے۔

سالانہ 10 روزہ اجتماع بسلسلہ شہادتِ حضور امام حسین ؓ۔

منقبت

سالانہ عرس مبارک حضورشاہ ِ جیلانی ؓ۔

سلطان العارفین سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ

سلطان العارفین سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ

یکم جمادی الثانی 1039ھ (17جنوری1630ء) بروز جمعرات بوقت فجر شاہجہان کے عہدِ حکومت میں قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔شجرہ نسبآپ اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اعوانوں کا شجرہ نسب علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔ اعوان علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔سخی سلطان باہو کے والد بازید محمد پیشہ ور سپاہی تھے اور شاہجہان کے لشکر میں ممتاز عہدے پر فائز تھے۔ آپ ایک صالح، شریعت کے پابند، حافظِ قرآن فقیہ شخص تھے۔ سخی سلطان باہو کی والدہ بی بی راستی عارفہ کاملہ تھیں اور پاکیزگی اور پارسائی میں اپنے خاندان میں معروف تھیں۔ سخی سلطان باہو کی پیدائش سے قبل ہی بی بی راستی کو ان کے اعلیٰ مرتبہ کی اطلاع دے دی گئی تھی اور ان کے مرتبہ فنا فی ھُو کے مطابق ان کا اسمِ گرامی باھُو الہاماً بتا دیا گیاتھا جیسا کہسخی سلطان باہو فرماتے ہیں:نام باہومادر باہو نہادزانکہ باہودائمی باہو نہادترجمہ:باہوکی ماں نے نام باہورکھا کیونکہ باہوہمیشہ ہو کے ساتھ رہا۔پیدائشی ولیسخی سلطان باہو پیدائشی عارف باللہ تھے۔ اوائل عمری میں ہی آپ وارداتِ غیبی اور فتوحاتِ لاریبی میں مستغرق رہتے۔ آپ نے ابتدائی باطنی و روحانی تربیت اپنی والدہ ماجدہ سے حاصل کی۔ آپکی پیشانی نورِ حق سے اس قدر منور تھی کی اگر کوئی کافر آپکے مبارک چہرے پر نظر ڈالتا تو فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتا۔تلاش مرشدآپ اپنی کتب میں بیان فرماتے ہیں کہ میں تیس سال تک مرشد کی تلاش میں رہا مگر مجھے اپنے پائے کا مرشد نہ مل سکا۔ یہ اس لیے کہ آپ فقر کے اس اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے جہاں دوسروں کی رسائی بہت مشکل تھی۔ چنانچہ آپ اپنا ایک کشف اپنی کتب میں بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ دیدارِ الٰہی میں مستغرق شورکوٹ کے نواح میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور، صاحبِ حشمت سوار نمودار ہوئے جنہوں نے اپنائیت سے آپ کو اپنے قریب کیا اور آگاہ کیا کہ میں علیؓ ابنِ طالبؓ ہوں اور پھر فرمایا کہ آج تم رسول اللہﷺ کے دربار میں طلب کیے گئے ہو۔ پھر ایک لمحے میں آپ نے خود کو آقا پاک ﷺ کی بارگاہ میں پایا۔ اس وقت اس بارگاہ میں ابوبکر صدیق ،عمر، عثمان غنی اور تمام اہلِ بیت حاضر تھے۔ آپ کو دیکھتے ہی پہلے ابوبکر صدیق نے آپ پر توجہ فرمائی اور مجلس سے رخصت ہوئے، بعد ازاں عمر اور عثمان غنی بھی توجہ فرمانے کے بعد مجلس سے رخصت ہو گئے ۔ پھر آنحضرت ﷺ نے اپنے دونوں دستِ مبارک میری طرف بڑھا کر فرمایا میرے ہاتھ پکڑو اور مجھے دونوں ہاتھوں سے بیعت فرمایا۔ بعد ازاں آقائے دو جہاں ﷺ نے آپ کو غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کے سپرد فرمایا۔ آپ فرماتے ہیں جب فقر کے شاہسوار نے مجھ پر کرم کی نگاہ ڈالی تو ازل سے ابد تک کا تمام راستہ میں نے طے کر لیا۔ پھر عبدالقادر جیلانی کے حکم پر سخی سلطان باہو نے دہلی میں عبدالرحمن جیلانی دہلوی کے ہاتھ پر ظاہری بیعت کی اور ایک ہی ملاقات میں فقر کی وراثت کی صورت میں اپنا ازلی نصیبہ ان سے حاصل کر لیا۔سلسلہ نسبتسخی سلطان باہوکا تعلق سلسلہ سروری قادری سے ہے۔ سلسلہ قادری کا آغاز عبدالقادر جیلانی سے ہوا اور اس کی دو شاخیں سروری قادری اور زاہدی قادری ہیں۔ سخی سلطان باہو کا سلسلہ سروری قادری ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ظاہری وصال کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں منتخب کر کے بھیجا گیا جنہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے امانتِ فقر سونپی۔ – ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی حیات مبارکہ پر تحقیق کرنے والوں میں سب سے زیادہ اختلاف آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سید عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت کے معاملہ پر پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود بیعت فرمایا اور آپ کو غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے سپرد فرمایا اور انہوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تربیت فرمائی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو ہی ”شیخِ ما” فرمایا ہے۔ دوسری دلیل یہ لوگ یہ لاتے ہیں کہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے خود اپنی کسی کتاب میں بھی اس ظاہری بیعت کا تذکرہ نہیں کیا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کسی سے فیض حاصل کریں اور اُس کا تذکرہ بھی نہ کریں۔ اگر اِن لوگوں کی یہ بات درست تسلیم کر لی جائے تو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بھی اپنی کسی کتاب میں اپنے مرشد کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی سیّد حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”سِرّ الحبیب” میں کہیں بھی اپنے مرشد سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ فرمایا۔ سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کا ذکر صرف ”مناقبِ سلطانی” میں شجرۂ طریقت کے ساتھ مذکورہے اور چونکہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی حیات پر یہ اوّلین تصنیف ہے اس لیے اس پر یقین کرنا ہی پڑتا ہے اور اختلاف تو تب کیا جائے جب کوئی دوسری وجہ یا ثبوت موجود ہو۔ اب ہم اس سلسلہ میں اختلافات کا ذکر کرتے ہیں۔
فقیر نور محمد کلاچوی” مخزنِ اسرار” میں حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کے متعلق لکھتے ہیں:”حضرت سلطان العارفین قدس سرہٗ العزیز کی ظاہری بیعت کا کہیں سراغ نہیں ملتا اور ٹھیک پتہ معلوم نہیں ہوتا۔ (مخزن الاسرار ۔صفحہ 260-259)لیکن فقیر نور محمد کلاچوی مرحوم ہی اپنی کتاب ”انوارِ سلطانی پنجابی شرح اشعارِ سلطانی” میں صفحہ 8 پر سلسلہ سروری قادری کا شجرہ طریقت درج فرماتے ہیں اس میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مبارک نام سے پہلے ”پیر رحمن” (سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ) کا نام موجود ہے۔ یعنی دوسری کتاب میں خود اپنی ہی بات کو ردّ فرما رہے ہیں۔ اورپھر فقیر نور محمد کلاچوی صاحب کے صاحبزادے فقیر عبدالحمید سروری قادری (جواُن کے جانشین بھی ہیں) نے ”حیاتِ سروری” کے صفحہ 132′ 133 اور 219 پر جو شجرہ طریقت قادریہ سروریہ دیا ہے اس میں سیّد عبدالرحمن دہلوی کا نام ”پیر رحمن” کے نام سے موجود ہے۔ راہِ سلوک کے مسافر جانتے ہیں کہ شجرہ طریقت بیعت کرتے وقت مرشد پڑھتا ہے۔ اب فقیر نور محمد کلاچوی کی بات کو اُن کے جانشین فرزند ہی ردّ فرما رہے ہیں۔ڈاکٹر سلطان الطاف علی جن کا تعلق خانوادہ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے ہے”دیوانِ باھو” میں سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو ظاہری مرشد سے بے نیاز فرماتے ہیں اور ”شرح ابیاتِ باھو” کے دیباچے میں فرماتے ہیں کہ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے شیخ وہی تھے جن کو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں جابجا ”شیخِ ما” لکھا ہے یعنی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ،لیکن اپنی کتاب”مِرآتِ سلطانی (باھو نامہ کامل)” میں اپنی اس بات سے مراجعت فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔لکھتے ہیں:”شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اے فقیر تو جو کچھ چاہتا ہے میرے پاس نہیں۔البتہ آپ رحمتہ اللہ علیہ میرے مرشد کے پاس دہلی چلے جائیں جن کا نام پیر سیّد عبدالرحمن گیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ہے۔حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ جب دہلی پہنچے تو سیّد السادات حضرت پیر عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کو اپنا منتظر پایا انہوں نے سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو فوراً ہی فیضِ ازلی عطا فرما دیا۔” (صفحہ 114)پھر پروفیسر سلطان الطاف علی صاحب اسی کتاب کے صفحہ نمبر 120 اور 121پر سلسلہ قادریہ کے جو شجرہ ہائے طریقت درج فرماتے ہیں اُن میں حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے نام مبارک سے پہلے سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا نام درج کرتے ہیں۔ اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ظاہری بیعت سید عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر کی تھی۔اس سلسلہ میں سب سے سخت موقف پروفیسر احمد سعید ہمدانی صاحب کا ہے انہوں نے ”شیخِ ما حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد” کے عنوان سے اپنی کتاب سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ (حیات و تعلیمات) میں تفصیلی بحث کی ہے۔ اس بحث سے پہلے انہوں نے ”مناقبِ سلطانی” کی عبارت درج کی ہے۔ پہلے ”مناقبِ سلطانی” کی عبارت درج کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”دریائے راوی کے کنارے واقع گڑھ بغداد میں ایک شیخ حضرت شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ مشہور تھے۔ اُن کی خدمت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ حاضر ہوئے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے مختلف انداز سے حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو آزمانے کی کوشش کی مگر ہر بار حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو قوت و ہمت میں خود سے بڑھ کر پایا۔ آخر کو آپ رحمتہ اللہ علیہ سے درخواست کی کہ میرے شیخ حضرت پیر سیّد عبدالرحمن قادری دہلوی ( رحمتہ اللہ علیہ ) کی خدمت میں تشریف لے جائیے”۔”صاحبِ مناقب سلطانی” کے بیان کے مطابق دہلی کے اس سفر میں بھکر کے ایک درویش سلطان حمید آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ تھے۔ وہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ بھی تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت پیر عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پیر صاحب آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے گئے۔۔۔ پس آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مرشدِ کامل سے اپنا ازلی نصیبہ ایک قدم سے ایک ہی دم میں پالیا۔ جو چاہتے تھے’ مل گیا۔”پھر پروفیسر احمد سعید ہمدانی صاحبِ ”مناقب سلطانی” سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”مناقبِ سلطانی” کے مصنف نے انہی عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کا ظاہری مرشد مانا ہے اور ایک شجرۂ طریقت بھی نقل کر دیا ہے مگر مذکورہ واقعہ بیان کرنے سے قبل انہوں نے حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا ایک کشف بھی لکھا ہے’ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو سب مطلوبہ فیض اویسی طور پر مل چکا تھا اور بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بوسیلہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ خلقِ خدا کو ہدایت دینے کا حکم صادر ہو چکا تھا۔کشف کا یہ واقعہ مصنف ”مناقبِ سلطانی” حضرت سلطان حامد صاحب نے اپنے بزرگوں سے سینہ بہ سینہ سنا ہے۔ یہ کشف عین بیداری میں ہوا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک دن شور کوٹ کے آس پاس کہیں کھڑے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور’ صاحبِ حشمت اور بارعب سوار نمودار ہوا۔ جس نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے بٹھا لیا۔ ۔۔۔۔ یہ حضرت امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ تھے۔۔۔۔۔۔( بعد ازاں جو کچھ پیش آیا اس کی تفصیل گذشتہ سطور میں نقل کی جاچکی ہے۔) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضری اور صحابۂ کبار اور اہلِ بیت(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی برکت سے مملو ہو کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے سپرد کیا گیا۔” رسالہ روحی شریف” میں حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ جب ارواح سلطان الفقر کا ذکر کرتے ہیں تو غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ( رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یکے روحِ شیخ ما’ حقیقت الحق’ نورِ مطلق’ مشہود علی الحق’ حضرت محبوبِ سبحانی” (ایک روح ہمارے شیخ’ حقیقت الحق’ نورِ مطلق’ مشہود علی الحق حضرت محبوبِ سبحانی ہیں) اب اگر اس کشف کے بیان اور پیر عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات کی روایت کا موازنہ کیا جائے تو تضاد ظاہر ہو جاتا ہے۔ جب اس ”فتحِ کبیر” کے بعد حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ پر تجلیاتِ ذاتی وارد ہونے لگیں اور خود ارواحِ جلیلہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو رشد و ہدایت کی اجازت سے سرفراز کر دیا تھا پھر کسی پیر سے ”ازلی نصیبہ” پالینے کا کیا سوال ہے؟ آپ تو خود ہی شروع سے مرشدِ کامل کے مقام پر فائز ہو چکے تھے۔” اس کے بعد پروفیسر احمد سعید ہمدانی مزید لکھتے ہیں:”مناقبِ سلطانی” میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”چونکہ حضرت سلطان العارفین قدس سرہ’ مادر زاد ولی تھے اس لیے روزِ پیدائش سے ہی صاحبِ اسرار تھے۔ نیز آپؒ خود فرماتے ہیں کہ مجھے انوارِ ذات کی تجلیات کے مکاشفات کے سبب ظاہری علم اور ورد وظیفہ کے لیے فرصت نہیں۔ میں ہر وقت وحدانیت میں مستغرق اور سیر فی الذات میں رہتا ہوں۔ اگر ظاہری علم یا وِرد وظیفہ کی فرصت و ضرورت نہ تھی تو پھر ظاہری مرشدی کی ضرورت سے بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ اسی طرح بے نیاز تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے تہذیبی زوال کے دور میں مختلف حلقوں اور شعبوں کے متاخرین کے ہاں صرف ظاہری نظام کے قواعد کا التزام اور اس کی غیر ضروری تاکید ہی باقی رہ گئی تھی’ اسی طرح طریقت میں بھی روایت کی ظاہری صورت کی اہمیت کچھ زیادہ ہی بڑھا دی گئی تھی۔ شاعری میں اگر کوئی کسی کو اپنا استاد ظاہر نہیں کر سکتا تھا تو اس کو بے اُستاد ہونے کا طعنہ دیا جاتا تھا’ اسی طرح طریقت میں جو اپنے تیءں کسی پیر سے منسلک ظاہر نہ کر سکتا تھا’ وہ بے پیر کہلاتا تھا۔ جہاں تک حضرت سلطان العارفین سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق ہے’انہوں نے تو اس کی ہرگز پرواہ نہیں کی اور اپنے رسائل و کتب میں کسی حبیب اللہ شاہ اور پیر سیّد عبدالرحمن قادری کا ذکر نہیں فرمایا’ اس کے برعکس اپنے اویسی فیض اور مذکورہ کشف کا اکثر ذکر کیا ہے مگر شاید بعد میں آنے والوں نے ضروری سمجھا کہ اس دور کے مخصوص تہذیبی پس منظر میں اپنے جدِ امجد کو کسی نہ کسی روایتی شجرۂ طریقت سے منسلک دیکھیں اور دکھائیں۔ یوں ظاہری مرشد کا حوالہ اُن کے نزدیک لازمی ٹھہرا۔” (صفحہ 46 تا 50)ممتاز بلوچ ”ھُو دے بیت” میں فرماتے ہیں:حضرت عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ہوراں دے ہتھیں آپ رحمتہ اللہ علیہ دی بیعت دا تذکرہ محض قیاسی اے جیہدا حقیقت نال کوئی تعلق نہیں بن دا تے نہ ای اجیہا کوئی تعلق نظر آندا اے۔ (صفحہ 61)ترجمہ:حضرت عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بیعت کا تذکرہ محض قیاس آرائی ہے جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق بنتا ہوا نظر نہیں آتا اور نہ ہی ایسا ممکن دکھائی دیتا ہے۔ممتاز بلوچ صاحب ایک تو صرف محقق ہیں اس لیے ان کی کتاب میں فقر کے بارے میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ علم کی حد تک ہے پھر اس عبارت کے سلسلہ میں بھی انہوں نے فقیر نور محمد کلاچوی’ سلطان الطاف علی اور پروفیسر احمد سعید ہمدانی صاحب کی اُن تحریروں کا سہارا لیا ہے جن میں وہ لوگ اس ظاہری بیعت کے مخالف نظر آتے ہیں۔مولوی محمد دین گجراتی نے سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پر ایک رسالہ 1927 میں طبع کرایا تھا جس میں وہ تحریر فرماتے ہیں:” پیر عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑا اور حجرے کے اندر لے گئے اور فرمایا: تو تو مالا مال فیضانِ توحیدی سے ہے اور تیرے ہاتھ پر ہاتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے اور حضرت پیرانِ پیر دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا تو تربیت یافتہ ہے’ پس حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بشارت پا کر بازارِ دہلی میں تشریف لا کر بازاریوں پر توجہ فرمائی۔ پس دوکاندار’ خاص و عام کو ایک عالم جذب کا ظہور میں آیا۔”سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ جو صاحبِ مسمّٰی اسمِ ذات مرشد’ امانتِ الٰہیہ’ خلافتِ الٰہیہ کے حامل اور سلطان الفقر کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اُن کا تعلق بھی خانوادہ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے ہے’ فرمایا کرتے تھے:”سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی سیّد عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت فقر کی ضروریات کی تکمیل تھی۔ پس آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک دن حاضر ہوئے بیعت کی اور واپس آگئے”۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا فرمانا تھا کہ فقر میں ظاہری بیعت ضروری ہے کیونکہ اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت نہ کرتے تو سلسلہ سروری قادری کی کڑی جو غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچتی تھی وہ ٹوٹ جاتی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ مرشدِ اتصال نہ رہتے۔ ہندوستان سے شائع ہونے والی تمام کتب آثارِدہلی، راہ نمائے مزاراتِ دہلی، مشائخِ قادریہ، مزاراتِ اولیاء دہلی اور بہت سی کتب میں جہاں سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ آیا ہے اس میں بھی یہ فقرہ موجود ہے کہ آپ (سیّد عبد الرحمن دہلوی) رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور صوفی حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد ہیں۔جن لوگوں نے حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت سے اختلاف کیا ہے یہ اُن کی تحقیق ہے جو انہوں نے اپنے علم اور موجود کتب سے کی لیکن ہماری تحقیق کا مقصد اُن کی مخالفت نہیں ہے بلکہ اُن کے کام کو مزید آگے بڑھانا ہے۔اس سلسلہ میں اتنا عرض ہے کہ محقق صرف تحقیق ہی کر سکتا ہے اور اس میں غلطی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔لیکن پھر بھی ان محققین کی بات علم کی حد تک درست ہے کیونکہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
1. سروری قادری اسے کہتے ہیں جسے خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بیعت فرماتے ہیں۔ اس کے وجود سے بدخلقی کی خوبو ختم ہو جاتی ہے اور اُسے شرع محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے۔ (محک الفقر کلاں)2. ایک اس (اعلیٰ) مرتبے کے سروری قادری ہوتے ہیں جنہیں خاتم النبیین رسولِ ربّ العالمین سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی مہربانی سے نواز کر باطن میں حضرت محی الدین شاہ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ العزیزکے سپرد کر دیں اور حضرت پیر دستگیر رحمتہ اللہ علیہ بھی اُسے اس طرح نوازتے ہیں کہ اُسے ایک لمحہ بھی خود سے جدا ہونے نہیں دیتے۔(محک الفقر کلاں)جنہوں نے ظاہری بیعت کو ردّ کیا ہے انہوں نے اویسی سلسلہ یا طریقہ کا سہارا لیا ہے۔ اویسی سلسلہ یا طریقہ موجود ہے اور ہم اس سے انکار نہیں کرتے ۔ اویسی طریقہ وہ ہے جس میں فیض براہِ راست حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یا کسی ولی کامل جو وصال پاچکا ہو’ سے ملتا ہے۔ اس میں تین طریقے ہیں:
1. جن عظیم ہستیوں کو تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز کیا جاتا ہے ان کے لیے اویسی طریقہ سے براہِ راست حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فیض حاصل کرنے کے باوجود ظاہری بیعت ضروری ہے کیونکہ ان کا مرشدِ اتصال ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ پیرانِ پیر غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جن کا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے ‘جن کو معراج کے دوران حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیعت فرمایا’ مادر زاد ولی ہیں اور جن کی مہربانی اور کرم کے بغیر کوئی فقر کی خوشبو تک کو نہیں پاسکتا، جن کو اویسی طریقہ سے سب کچھ عطا ہو چکا تھا جیسا کہ ہمعات میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:”حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد اولیاء کرام اور اصحابِ طریقت کا سلسلہ چلتا ہے ان میں سب سے زیادہ قوی الاثر بزرگ جنہوں نے راہِ جذب کو باحسن طے کرکے نسبتِ اویسی کی اصل کی طرف رجوع کیا اور اس میں نہایت کامیابی سے قدم رکھا وہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی ذاتِ گرامی ہے۔”یعنی حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے سب کچھ اویسی نسبت سے حاصل کیا اور سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ ان ہی کو اپنا مرشد مانتے ہیں اور ”شیخِ ما” فرماتے ہیں۔ اگر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو سب کچھ اویسی طریقہ سے مل چکاتھا تو انہیں پھر ظاہری بیعت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی حضرت شیخ مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ سے ظاہری بیعت مستند روایات کے ساتھ کتبِ سیر و تصوف میں منقول ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی بیعت اس طرح ہوئی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے مرشد حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں گئے۔ انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو کھانا کھلایا’ خرقہ پہنایا اور بات ختم ہوگئی۔ اسی دن سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے تلقین و ارشاد کا سلسلہ شروع فرما دیا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت بھی اسی طرح ہے اور مولوی محمد دین گجراتی کی عبارت سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے اور ہمارا موقف بھی یہی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے ظاہری مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے، بیعت کی اور تمام فیض یک دم پالیا کیونکہ فقر کی تمام منازل تو آپ رحمتہ اللہ علیہ اویسی طریقے سے طے کر چکے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ تلقین و ارشاد کی مسند کے لیے ظاہری بیعت ہونی کیوں ضروری ہے تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ فقر میں سلاسل کا ایک نظام قائم کیا گیا ہے جو درجہ بدرجہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچتا ہے۔ ہر مرشد کامل کو ”شیخِ اتصال” ہونا چاہیے یعنی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک شجرۂ طریقت پہنچنے تک سلسلے کا کہیں ”انقطاع” نہیں ہونا چاہیے اورشجرۂ طریقت بابِ علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے گزر کر مدینۃ العلم حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک سلسلہ پہنچنے تک درمیان سے کوئی کڑی ٹوٹنے نہ پائے ورنہ بڑے بڑے فتنوں کے وقوع پذیر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر لوگ نبوت اور جعلی مہدی ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں تو کوئی گمراہ کسی گدی پر بیٹھ کر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اُسے براہِ راست فیض حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یا کسی ولی سے مل گیا ہے اور اسے ظاہری بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا ہے تو وہ گمراہ ہے اور اُسے جوتے مارو۔ آج کل گلی گلی جو جعلی پیر پھیلے ہوئے ہیں اُن سب کا کہنا ہے کہ اُن کو براہِ راست فیض ملا ہوا ہے اور ظاہری بیعت سے انکاری ہیں اور کچھ جدی اور پیدائشی پیر ہیں۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت رسماً اسی نسبت سے ہے۔ اور تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہونے کے لیے ظاہری بیعت ضروری ہے کیونکہ انہوں نے تلقین و ارشاد کے فرائض ادا کرنے تھے اور ایک زمانے کو فیض پہنچانا تھا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلہ نے تاقیامت قائم رہنا ہے۔ دوسری وجہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کی یہ ہے کہ مستقبل میں کوئی گمراہ آپ رحمتہ اللہ علیہ جیسی ہستیوں کو مثال بنا کر اویسی طریقہ کا سہارا لے کر مسندِ تلقین و ارشاد پر نہ بیٹھ جائے۔ تاریخ میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ہے کہ کوئی تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہوا ہو اور مرشدِ اتصال نہ ہو اور ظاہری بیعت سے بے نیاز ہو ۔غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں ”مشائخِ عظام کہ جن کا سلسلہ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک تسلسل کے ساتھ پہنچتا ہے بابِ علم (حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ) سے گزر کر علم کے صدر مقام (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام) تک پہنچتا ہے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف حکمت کے ذریعہ بلاتے ہیں”۔(سرّالاسرار فصل 5)اس عبارت سے ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ صاحبِ تلقین و ارشاد ہونے کے لیے ”مرشد اتصال ”ہونا ضروری ہے۔
2. دوسرا اویسی طریقہ وہ ہے’ جس میں تلقین و ارشاد کا کام نہیں لیا جاتا صرف دین کا کوئی کام لینا مقصود ہوتا ہے اس کی مثال علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی ہے جن کو مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی روح سے اویسی طریقہ سے فیض ملا حالانکہ اوائل عمری میں آپ رحمتہ اللہ علیہ قادری سلسلہ میں ظاہری بیعت بھی کر چکے تھے لیکن اپنے کلام میں کہیں بھی ظاہری مرشد کا ذکر نہیں کرتے بلکہ مولانا روم ؒ کو ہی اپنا مرشد قرار دیتے ہیں۔3. تیسرا اویسی طریقہ وہ ہے جس کے تحت ابتدائے حال میں کسی طالب کی راہِ حق میں تربیت کی جاتی ہے۔ اب اس طالب کو اس کا علم ہو یا نہ ہو یہ ضروری نہیں۔ پھر ظاہری مرشد کی بارگاہ میں مکمل تربیت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔امید ہے اس تحریر سے حضرت سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئی ہوں گی۔سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے ظاہری مرشد ہیں۔ آپ غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی اولاد پاک میں سے ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ذات پاک پر اَسرار کے وہی پردے پڑے ہوئے ہیں جو سروری قادری مشائخ کا خاصہ ہیں یعنی دنیا سے مخفی اور پوشیدہ رہنا۔صاحبِ مناقبِ سلطانی کے مطابق” سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سلطنتِ دہلی میں منصب دار تھے اور شاہی خزانہ کے امانت دار اور کلید دار تھے جس کے باعث محفوظ اور مناسب عمارت کے ساتھ کئی مسلح پہرہ داروں کا انتظام آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حاصل تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ جب مریدین سے ملاقات کے لیے تشریف لاتے تو چہرہ مبارک پر ایک نقاب ڈال لیتے تھے کیونکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے چہرہ مبارک پر جو جلال و جمالِ الٰہی کے انوار تاباں تھے لوگ اِن کو دیکھنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔ گویا آپ رحمتہ اللہ علیہ فقر کے ساتھ ساتھ اعلیٰ دنیاوی منصب پر بھی فائز تھے۔”
مناقبِ سلطانی کی اس عبارت سے مندرجہ ذیل الجھنیں جنم لیتی ہیں:1. چونکہ سیّد عبدالرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فقر کے اعلیٰ مراتب پر فائز تھے اس لیے ادنیٰ و اعلیٰ طالبانِ مولیٰ فقر کی نعمت کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچتے ہوں گے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کی صحبتِ عالیہ سے بھی مستفید ہوتے ہوں گے’ ہندوستانی مصنفین کے مطابق لاکھوں لوگوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض پایا’ اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ اعلیٰ شاہی منصب پر فائز ہوتے تو ایسا ممکن نہ ہو پاتا کیونکہ پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے اس دنیاوی منصب کے فرائض کی ادائیگی میں زیادہ مصروف رہتے۔ پھر شاہی منصب دار کی حیثیت سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ کسی مؤرخ نے نہیں کیا۔ ہندوستانی مصنفین نے بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ صرف آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے ضمن میں کیا ہے جو صرف چند سطروں پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ اعلیٰ دنیوی منصب پر فائز تھے اور شاہی خزانہ کے انچارج و نگران تھے تو شاہی خاندان کے ہر فرد اور دربار کے ہر ملازم کا آپ رحمتہ اللہ علیہ سے واسطہ رہتا ہوگا۔ شاہجہان اور اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں درجنوں مؤرخینِ تاریخ کا ایک ایک لمحہ قلمبند کرنے پر مامور تھے لیکن کسی نے بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ نہیں کیا جو عجیب سی بات محسوس ہوتی ہے۔2. جب سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ آپ رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کے بعد دہلی کی جامع مسجد میں تشریف لے گئے اور سب پر نگاہ فرمائی سب پر اس کا اثر ہوا لیکن اورنگ زیب عالمگیر اور کوتوال پر نہیں ہوا جس پر اورنگ زیب عالمگیر نے فیض کی درخواست کی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ”رسالہ اورنگ شاہی” تصنیف فرمایا۔ کیا اِس ملاقات میں اورنگ زیب عالمگیر نے آپ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ سوال نہیں کیا ہوگا کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ دہلی کیسے تشریف لائے؟ اورجواب میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ فرمایا ہو گا، اگر سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ شاہی ملازم ہوتے تو اورنگ زیب عالمگیر فوراً سیّد عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو پہچان جاتا اور پھر سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے مسلسل ملاقات رکھتا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے مشیروں میں شامل کرتا ۔3. پھر چہرے پر نقاب ڈالنا سروری قادری مشائخ کی خصوصیت نہیں ہے ۔ اس طرح سے انسان زیادہ مشہور اور معروف ہوتا ہے اور اس کی شہرت جلد پھیلتی ہے جبکہ سروری قادری شیخ گمنامی اور خمول کو پسند کرتا ہے اور حکمرانوں سے دور بھاگتا ہے اور عوام میں رہتا ہے ۔4. آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک پرانی دہلی میں لاہوری دروازہ سے کافی فاصلے پر باہر واقع ہے اور ساتھ ہی مسجد شاہ عبد الرحمن بھی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ قلعہ کے اندر نہیں بلکہ باہر عوام الناس میں رہے اور عوام الناس ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ سے فیض یاب ہوتے رہے۔مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں ثابت یہی ہوتا ہے کہ صاحبِ مناقبِ سلطانی نے تحقیق نہیں کی اور نہ ہی اس غرض سے دہلی کا سفر فرمایا۔ جو روایت خاندان میں کسی سے سنی درج فرما دی۔1934ء میں سیّد تجمل شاہ نقوی اچوی کی کتاب ”باغِ سادات” شائع ہوئی۔ 1947ء میں بارِ سوم شائع ہوا۔ اب یہ کتاب نایاب ہے اس کتاب کا بارِ اوّل تو1934ء ہی میں شائع ہوا کیونکہ”شریف التواریخ” جو 1934ء میں شائع ہوئی تھی، میں اِس کتاب کا حوالہ موجود ہے۔ اس کتاب کے صفحہ 61پر سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب اس طرح درج کیا گیا ہے :غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗسیّد عبد الرزاق جیلا نی رحمتہ اللہ علیہابو صالح نصرسیّد یٰسینسیّد احمد شاہسیّد عبد القادرسیّد عبد الطیفسیّد عبد الرحمن عرف بھولو شاہ مدفن دہلی پیشوا سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہیہ شجرہ نسب آگے اس طرح چلتا ہے:
پیر حبیب شاہپیر رجب شاہعبد اللہمحمد شاہپیر اللہ بخشپیر کریم شاہحضورشاہنور شاہزمان شاہ (مزار موضع تنگ عیسیٰ خیل میانوالی پاکستان میں ہے)اس نسب نامہ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا لقب کبھی بھی بھولو شاہ نہیں رہا۔ بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ دہلی میں1200ھ میں ایک اور قادری بزرگ گزرے ہیں جن کا مزار سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار سے دو یا تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور ان کا تذکرہ ہندوستان کی موجودہ اور قدیم کتب میں ملتا ہے۔ ان کو تمام مصنفین نے بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ ، مگر غلام یحییٰ انجم نے تاریخ مشائخ قادریہ جلد سوم میں شاہ بہلنؒ عرف بھولو شاہ لکھا ہے۔بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ ایک مجذوب قادری بزرگ تھے اور پنجاب سے ہجرت کرکے دہلی تشریف لے گئے تھے سلسلہ قادریہ میں آپ عبد الحمید کے مرید و خلیفہ تھے ۔
”واقعات دار الحکومت دہلی” (جلد دوم) میں ہے:”بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار1201ھ کابلی دروازہ تو اب نہیں رہا مگر اس کی جگہ سب کو معلوم ہے اسی کے پاس آپ کا مزار ہے۔ آپ سلسلہ قادریہ کے بزرگ تھے 1201ھ میں انتقال کیا، مست روز الست تاریخ وفات ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے برابر ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خاص مرید شاہ محمد حفیظ صاحب کا مزار ہے جن کے برابر اِن کے صاحبزادے شاہ غلام محمد مدفون ہیں۔ 19محرم کو بھولو شاہ صاحب کا عرس ہو تا ہے”۔(صفحہ473)
محمد عالم شاہ فریدی کی کتاب ”مزاراتِ اولیاء دہلی” اولین کتاب ہے جو1927ء میں دہلی کے مزارات کے بارے میں شائع ہوئی اس کا دوسرا ایڈیشن 1930میں طبع ہوا۔ 1947میں مصنف اور پبلیشر پاکستان ہجرت کر آئے۔ 2006ء میں ڈاکٹر حفیظ الرحمن صدیقی نے اضافہ و تصحیح کے ساتھ اسے دوبارہ دہلی سے شائع کیا ہے۔ اس میں درج ہے:”بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ 1789ء نزد کابلی دروازہ پرانی دہلی ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے رہنے والے تھے سلسلہ قادریہ رزاقیہ میں شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں اور مولانا فخرالدین چشتی و شاہ نانو کے صحبت یافتہ ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ مجذوب سالک تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے20محرم 1204ھ بمطابق 1789ء کو بعہد شاہ عالم ثانی انتقال فرمایا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار کابلی دروازہ کے باہر ہے”۔ (طبع دہلی انڈیا۔صفحہ157۔158)راہنما ئے مزاراتِ دہلی میں ہے:”آپ (حضرت بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ ) سلسلہ قادریہ رزاقیہ میں حضرت شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا اصلی وطن پنجاب تھا اور حضرت شیخ نانو و حضرت شاہ فخر الدین رحمتہ اللہ علیہم کے صحبت یافتہ تھے۔ 20محرم 1204ھ میں وفات پائی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مٹھائی پل پر داہنی طرف نیچے اتر کر ریلوے لائن کے پاس ہے (لاہوری گیٹ4 پرانی دہلی6) قریب میں مسجد بنی ہوئی ہے۔ حضرت شاہ حفیظ الرحمن رحمتہ اللہ علیہ حضرت شاہ بھولو رحمتہ اللہ علیہ کے خاص مریدوں میں تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اکبر شاہ ثانی کے دورِ حکومت میں30ذیقعد 1236ھ میں وفات پائی اور اپنے مرشد کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ حضرت شاہ غلام محمد آپ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اور خلیفہ تھے ان کا مزار اپنے مرشد والد کی پائنتی کی طرف ہے”۔(طبع دہلی انڈیا۔صفحہ284 تا286)غلام یحییٰ انجم تاریخ مشائخ قادریہ (جلد سوم) میں رقمطراز ہیں:”حضرت شاہ بہلن عرف بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ ۔ آپ کا تعلق سلسلہ قادریہ رزاقیہ سے ہے اس سلسلہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ تھے مولانا فخر الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی فیض حاصل کیا تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی کیفیت مجذوب سالک کی سی تھی 19محرم 1204ھ(1789ء) کو وصال ہوا۔مست روز الست تاریخ سنہ ولادت ہے۔ دہلی میں کابلی دروازہ سے متصل ”تکیہ بھولو شاہ” میں دفن ہوئے مزار مقدس پر موسم بہار میں بسنت کا میلہ بڑی دھوم دھام سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے عقیدت مند مناتے ہیں”۔ (طبع دہلی انڈیا۔ صفحہ291)ان تمام تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ صاحبِ باغِ سادات نے سیّد عبد الرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا جو شجرہ نسب بھولو شاہ صاحب کے نام سے درج کیا ہے وہ سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا نہیں بلکہ بھولو شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا ہے جن کا تعلق پنجاب سے تھا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ پنجاب سے ہجرت کرکے دہلی تشریف لے گئے اور شاہ عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ سے قادریہ سلسلہ کا فیض حاصل کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد پنجاب میں ہی رہی اس لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ شاہ محمد حفیظ صاحب اور اس کے بعد اُن کے صاحبزادے شاہ محمد صاحب سجادہ نشین ہوئے جن کے مزارات حضرت بھولو شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ ہی ہیں ۔سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک ان کے مزار سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر لاہور ی گیٹ صدر بازار ریلوے سٹیشن ریلوے کالونی مسلم وقف بورڈ کوارٹر پرانی دہلی6میں واقع ہے۔
ہندوستانی کتب میں سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ ”مزاراتِ اولیاء دہلی” میں ہے:
”آپ رحمتہ اللہ علیہ بڑے مستند اولیاء میں سے ہیں قادریہ خاندان میں سیّد عبد الجلیل رحمتہ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ ہیں اور سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور بزرگ کے پیرو مرشد ہیں۔ صاحبِ تصرف و کرامات تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار ریلوے سٹیشن صدر بازار کے مسافر خانہ کے پیچھے ایک احاطہ میں ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال آخر زمانہ شاہجہاں یا شروع زمانہ عالمگیر میں ہوا سن وفات معلوم نہیں۔(طبع اوّل دہلی 1927)اور اسی کتاب کے بعد شائع ہونے والی کتب میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے حالاتِ زندگی اسی طرح نقل در نقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔
”راہنمائے مقاماتِ مقدس دہلی” میں درگاہ سیّد عبد الرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں درج ہے:”یہ درگاہ متصل صدر سٹیشن دہلی ہے آپ رحمتہ اللہ علیہ اولاد سیّدنا عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے ہیں۔ اعظم اولیاء اللہ ہوئے ہیں۔ سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ جو بڑے اولیاء اللہ پنجاب میں مشہور ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے۔ یہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا تصرفِ ولایت ہے کہ گورنمنٹ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ کو سڑک اور ریل سے بچایا بلکہ اس کا احاطہ بہت پختہ ریختہ کا اور جنگلہ آہنی اور درگاہ شریف میں جانے کا راستہ بنوا دیا ہے۔”(طبع 1914دہلی)ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم تاریخ مشائخ قادریہ جلد سوم میں تحریر فرماتے ہیں:”حضرت سیّدنا شیخ عبد الرحمن گیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا شمار دہلی کے اہم مشائخ میں ہوتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا نسبی رشتہ سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی اولاد سے ہے۔ تقویٰ ، تدین اور زہدو ریاضت میں ممتاز تھے کشف و کرامات میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا پایہ بہت بلند تھا۔ حضرت سیّد عبد الرحمن گیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو سلسلہ قادریہ کی دولت سیّد عبدالجلیل رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل ہوئی تھی اس سلسلہ میں آپ رحمتہ اللہ علیہ انہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ دہلی اور اس کے اطراف و نواح میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ذات سے سلسلہ قادریہ کو بے حد فروغ حاصل ہوا۔ بے شمار بندگانِ خدا آپ رحمتہ اللہ علیہ کے دامنِ ارادت سے وابستہ ہوئے اور کتنوں کو اجازت و خلافت کا منصب عطا ہوا۔ مشہور بزرگ حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی کے خلیفہ تھے۔”(طبع دہلی2006)راہنمائے مزارات دہلی میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے ضمن میں تذکرہ ہے:”حضرت عبد الرحمن گیلانی رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور بزرگ حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے پیرو مرشد ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ صاحبِ تصرف و کرامات اور خاندانِ قادریہ کے مستند بزرگ تھے”۔(طبع دہلی2007ء)بیلی(Bale) نے اورینٹل بائیوگرافیکل ڈکشنری(Oriental Biographical Dictionary) میں تحریر کیا ہے کہ سیّد عبد الرحمن گیلانی رحمتہ اللہ علیہ وہی ہیں جو عبد العزیز نقشبندی کے فرزند تھے اور جن کی بیٹی کی شادی داراشکوہ کے بیٹے سلیمان شکوہ سے ہوئی۔ ڈاکٹر راما کرشناکا بھی یہی موقف ہے لیکن یہ بات قیاس لگتی ہے کیونکہ ایک تو سیّد عبد الرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نسبی جیلانی سادات ہیں اور دوسرے آپ سلسلہ فقر میں پشت ہا پشت سے قادری سلسلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اُن کے والد نقشبندی سلسلہ سے ہوں اور یہ بات بھی حتمی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ ہی ہند تشریف لائے تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد نہیں آئے تھے اور پھر بیلی (Bale) کی اس رائے کو کسی نے بھی مستند نہیں سمجھا اور نہ ہی یہ سلسلہ سروری قادری یا قادری سلسلہ میں کوئی اہمیت رکھتی ہے۔ قدیم اور جدید مصنفین میں سے کسی نے اس کا تذکرہ تک نہیں کیا۔سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں ہندوستانی اور پاکستانی مصنفین کی تمام تحقیق ہم نے واضح طور پر بیان کر دی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستانی مصنفین وہی درج کرتے چلے آ رہے ہیں جو1914میں ”آثارِ دہلی” یا 1927میں ”مزاراتِ اولیاء دہلی” میں شائع ہو چکا ہے اور پاکستانی مصنف وہی درج کرتے چلے آرہے ہیں جو ”مناقبِ سلطانی” میں شائع ہو چکا ہے۔ تحقیق کرنا تو دور کی بات ہے کسی نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک تک جانے کی کوشش تک نہیں کی۔سوانحِ حیات سیّد عبد الرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہمخطوطہ سیّد سلیم الزماں ہاشمی کے مطابق سیّد عبدالرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ درج کی جار ہی ہے۔
سیّد عبد الرحمن دہلوی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القار جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی اولاد پاک سے ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب اس طرح حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے جا ملتا ہے:سیّد عبد الرحمن دہلوی جیلانی بن سیّد عبد القادر بن شرف الدین بن سیّد احمد بن علاؤ الدین ثانی بن سیّد شہاب الدین ثانی بن شرف الدین قاسم بن محی الدین یحییٰ بن بدرالدین حسین بن علاؤ الدین بن شمس الدین بن سیف الدین یحییٰ بن ظہیر الدین بن ابی نصر بن ابو صالح نصر بن سیّدنا عبد الرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بن غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ۔ سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی حیات مبارکہ پر تحقیق کرنے والوں میں سب سے زیادہ اختلاف آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سید عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت کے معاملہ پر پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود بیعت فرمایا اور آپ کو غوث الاعظم حضرت شیخ محی الدین سیّد عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے سپرد فرمایا اور انہوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تربیت فرمائی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو ہی ”شیخِ ما” فرمایا ہے۔ دوسری دلیل یہ لوگ یہ لاتے ہیں کہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے خود اپنی کسی کتاب میں بھی اس ظاہری بیعت کا تذکرہ نہیں کیا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کسی سے فیض حاصل کریں اور اُس کا تذکرہ بھی نہ کریں۔ اگر اِن لوگوں کی یہ بات درست تسلیم کر لی جائے تو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے بھی اپنی کسی کتاب میں اپنے مرشد کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی سیّد حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”سِرّ الحبیب” میں کہیں بھی اپنے مرشد سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ فرمایا۔ سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ سے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کا ذکر صرف ”مناقبِ سلطانی” میں شجرۂ طریقت کے ساتھ مذکورہے اور چونکہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی حیات پر یہ اوّلین تصنیف ہے اس لیے اس پر یقین کرنا ہی پڑتا ہے اور اختلاف تو تب کیا جائے جب کوئی دوسری وجہ یا ثبوت موجود ہو۔ اب ہم اس سلسلہ میں اختلافات کا ذکر کرتے ہیں۔فقیر نور محمد کلاچوی” مخزنِ اسرار” میں حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کے متعلق لکھتے ہیں:
”حضرت سلطان العارفین قدس سرہٗ العزیز کی ظاہری بیعت کا کہیں سراغ نہیں ملتا اور ٹھیک پتہ معلوم نہیں ہوتا۔ (مخزن الاسرار ۔صفحہ 260-259)
لیکن فقیر نور محمد کلاچوی مرحوم ہی اپنی کتاب ”انوارِ سلطانی پنجابی شرح اشعارِ سلطانی” میں صفحہ 8 پر سلسلہ سروری قادری کا شجرہ طریقت درج فرماتے ہیں اس میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مبارک نام سے پہلے ”پیر رحمن” (سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ) کا نام موجود ہے۔ یعنی دوسری کتاب میں خود اپنی ہی بات کو ردّ فرما رہے ہیں۔ اورپھر فقیر نور محمد کلاچوی صاحب کے صاحبزادے فقیر عبدالحمید سروری قادری (جواُن کے جانشین بھی ہیں) نے ”حیاتِ سروری” کے صفحہ 132′ 133 اور 219 پر جو شجرہ طریقت قادریہ سروریہ دیا ہے اس میں سیّد عبدالرحمن دہلوی کا نام ”پیر رحمن” کے نام سے موجود ہے۔ راہِ سلوک کے مسافر جانتے ہیں کہ شجرہ طریقت بیعت کرتے وقت مرشد پڑھتا ہے۔ اب فقیر نور محمد کلاچوی کی بات کو اُن کے جانشین فرزند ہی ردّ فرما رہے ہیں۔ڈاکٹر سلطان الطاف علی جن کا تعلق خانوادہ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے ہے”دیوانِ باھو” میں سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو ظاہری مرشد سے بے نیاز فرماتے ہیں اور ”شرح ابیاتِ باھو” کے دیباچے میں فرماتے ہیں کہ حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے شیخ وہی تھے جن کو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں جابجا ”شیخِ ما” لکھا ہے یعنی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ،لیکن اپنی کتاب”مِرآتِ سلطانی (باھو نامہ کامل)” میں اپنی اس بات سے مراجعت فرماتے ہوئے نظر آتے ہیں۔لکھتے ہیں:
”شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اے فقیر تو جو کچھ چاہتا ہے میرے پاس نہیں۔البتہ آپ رحمتہ اللہ علیہ میرے مرشد کے پاس دہلی چلے جائیں جن کا نام پیر سیّد عبدالرحمن گیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ہے۔حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ جب دہلی پہنچے تو سیّد السادات حضرت پیر عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کو اپنا منتظر پایا انہوں نے سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو فوراً ہی فیضِ ازلی عطا فرما دیا۔” (صفحہ 114)
پھر پروفیسر سلطان الطاف علی صاحب اسی کتاب کے صفحہ نمبر 120 اور 121پر سلسلہ قادریہ کے جو شجرہ ہائے طریقت درج فرماتے ہیں اُن میں حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے نام مبارک سے پہلے سیّد عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا نام درج کرتے ہیں۔ اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ظاہری بیعت سید عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر کی تھی۔اس سلسلہ میں سب سے سخت موقف پروفیسر احمد سعید ہمدانی صاحب کا ہے انہوں نے ”شیخِ ما حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد” کے عنوان سے اپنی کتاب سلطان العارفین حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ (حیات و تعلیمات) میں تفصیلی بحث کی ہے۔ اس بحث سے پہلے انہوں نے ”مناقبِ سلطانی” کی عبارت درج کی ہے۔
پہلے ”مناقبِ سلطانی” کی عبارت درج کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”دریائے راوی کے کنارے واقع گڑھ بغداد میں ایک شیخ حضرت شاہ حبیب اللہ قادری رحمتہ اللہ علیہ مشہور تھے۔ اُن کی خدمت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ حاضر ہوئے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے مختلف انداز سے حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو آزمانے کی کوشش کی مگر ہر بار حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو قوت و ہمت میں خود سے بڑھ کر پایا۔ آخر کو آپ رحمتہ اللہ علیہ سے درخواست کی کہ میرے شیخ حضرت پیر سیّد عبدالرحمن قادری دہلوی ( رحمتہ اللہ علیہ ) کی خدمت میں تشریف لے جائیے”۔”صاحبِ مناقب سلطانی” کے بیان کے مطابق دہلی کے اس سفر میں بھکر کے ایک درویش سلطان حمید آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ تھے۔ وہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ بھی تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت پیر عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو پیر صاحب آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑ کر خلوت میں لے گئے۔۔۔ پس آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مرشدِ کامل سے اپنا ازلی نصیبہ ایک قدم سے ایک ہی دم میں پالیا۔ جو چاہتے تھے’ مل گیا۔”پھر پروفیسر احمد سعید ہمدانی صاحبِ ”مناقب سلطانی” سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”مناقبِ سلطانی” کے مصنف نے انہی عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کا ظاہری مرشد مانا ہے اور ایک شجرۂ طریقت بھی نقل کر دیا ہے مگر مذکورہ واقعہ بیان کرنے سے قبل انہوں نے حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا ایک کشف بھی لکھا ہے’ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کو سب مطلوبہ فیض اویسی طور پر مل چکا تھا اور بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بوسیلہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ خلقِ خدا کو ہدایت دینے کا حکم صادر ہو چکا تھا۔کشف کا یہ واقعہ مصنف ”مناقبِ سلطانی” حضرت سلطان حامد صاحب نے اپنے بزرگوں سے سینہ بہ سینہ سنا ہے۔ یہ کشف عین بیداری میں ہوا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک دن شور کوٹ کے آس پاس کہیں کھڑے تھے کہ اچانک ایک صاحبِ نور’ صاحبِ حشمت اور بارعب سوار نمودار ہوا۔ جس نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے بٹھا لیا۔ ۔۔۔۔ یہ حضرت امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ تھے۔۔۔۔۔۔( بعد ازاں جو کچھ پیش آیا اس کی تفصیل گذشتہ سطور میں نقل کی جاچکی ہے۔) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضری اور صحابۂ کبار اور اہلِ بیت(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی برکت سے مملو ہو کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے سپرد کیا گیا۔” رسالہ روحی شریف” میں حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ جب ارواح سلطان الفقر کا ذکر کرتے ہیں تو غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ( رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یکے روحِ شیخ ما’ حقیقت الحق’ نورِ مطلق’ مشہود علی الحق’ حضرت محبوبِ سبحانی” (ایک روح ہمارے شیخ’ حقیقت الحق’ نورِ مطلق’ مشہود علی الحق حضرت محبوبِ سبحانی ہیں) اب اگر اس کشف کے بیان اور پیر عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات کی روایت کا موازنہ کیا جائے تو تضاد ظاہر ہو جاتا ہے۔ جب اس ”فتحِ کبیر” کے بعد حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ پر تجلیاتِ ذاتی وارد ہونے لگیں اور خود ارواحِ جلیلہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو رشد و ہدایت کی اجازت سے سرفراز کر دیا تھا پھر کسی پیر سے ”ازلی نصیبہ” پالینے کا کیا سوال ہے؟ آپ تو خود ہی شروع سے مرشدِ کامل کے مقام پر فائز ہو چکے تھے۔” اس کے بعد پروفیسر احمد سعید ہمدانی مزید لکھتے ہیں:
”مناقبِ سلطانی” میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”چونکہ حضرت سلطان العارفین قدس سرہ’ مادر زاد ولی تھے اس لیے روزِ پیدائش سے ہی صاحبِ اسرار تھے۔ نیز آپؒ خود فرماتے ہیں کہ مجھے انوارِ ذات کی تجلیات کے مکاشفات کے سبب ظاہری علم اور ورد وظیفہ کے لیے فرصت نہیں۔ میں ہر وقت وحدانیت میں مستغرق اور سیر فی الذات میں رہتا ہوں۔ اگر ظاہری علم یا وِرد وظیفہ کی فرصت و ضرورت نہ تھی تو پھر ظاہری مرشدی کی ضرورت سے بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ اسی طرح بے نیاز تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ہمارے تہذیبی زوال کے دور میں مختلف حلقوں اور شعبوں کے متاخرین کے ہاں صرف ظاہری نظام کے قواعد کا التزام اور اس کی غیر ضروری تاکید ہی باقی رہ گئی تھی’ اسی طرح طریقت میں بھی روایت کی ظاہری صورت کی اہمیت کچھ زیادہ ہی بڑھا دی گئی تھی۔ شاعری میں اگر کوئی کسی کو اپنا استاد ظاہر نہیں کر سکتا تھا تو اس کو بے اُستاد ہونے کا طعنہ دیا جاتا تھا’ اسی طرح طریقت میں جو اپنے تیءں کسی پیر سے منسلک ظاہر نہ کر سکتا تھا’ وہ بے پیر کہلاتا تھا۔ جہاں تک حضرت سلطان العارفین سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق ہے’انہوں نے تو اس کی ہرگز پرواہ نہیں کی اور اپنے رسائل و کتب میں کسی حبیب اللہ شاہ اور پیر سیّد عبدالرحمن قادری کا ذکر نہیں فرمایا’ اس کے برعکس اپنے اویسی فیض اور مذکورہ کشف کا اکثر ذکر کیا ہے مگر شاید بعد میں آنے والوں نے ضروری سمجھا کہ اس دور کے مخصوص تہذیبی پس منظر میں اپنے جدِ امجد کو کسی نہ کسی روایتی شجرۂ طریقت سے منسلک دیکھیں اور دکھائیں۔ یوں ظاہری مرشد کا حوالہ اُن کے نزدیک لازمی ٹھہرا۔” (صفحہ 46 تا 50)ممتاز بلوچ ”ھُو دے بیت” میں فرماتے ہیں:
حضرت عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ہوراں دے ہتھیں آپ رحمتہ اللہ علیہ دی بیعت دا تذکرہ محض قیاسی اے جیہدا حقیقت نال کوئی تعلق نہیں بن دا تے نہ ای اجیہا کوئی تعلق نظر آندا اے۔ (صفحہ 61)
ترجمہ:حضرت عبدالرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کی بیعت کا تذکرہ محض قیاس آرائی ہے جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق بنتا ہوا نظر نہیں آتا اور نہ ہی ایسا ممکن دکھائی دیتا ہے۔
ممتاز بلوچ صاحب ایک تو صرف محقق ہیں اس لیے ان کی کتاب میں فقر کے بارے میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ علم کی حد تک ہے پھر اس عبارت کے سلسلہ میں بھی انہوں نے فقیر نور محمد کلاچوی’ سلطان الطاف علی اور پروفیسر احمد سعید ہمدانی صاحب کی اُن تحریروں کا سہارا لیا ہے جن میں وہ لوگ اس ظاہری بیعت کے مخالف نظر آتے ہیں۔مولوی محمد دین گجراتی نے سلطان العارفین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ پر ایک رسالہ 1927 میں طبع کرایا تھا جس میں وہ تحریر فرماتے ہیں:
” پیر عبدالرحمن قادری رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہاتھ پکڑا اور حجرے کے اندر لے گئے اور فرمایا: تو تو مالا مال فیضانِ توحیدی سے ہے اور تیرے ہاتھ پر ہاتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے اور حضرت پیرانِ پیر دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا تو تربیت یافتہ ہے’ پس حضرت سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بشارت پا کر بازارِ دہلی میں تشریف لا کر بازاریوں پر توجہ فرمائی۔ پس دوکاندار’ خاص و عام کو ایک عالم جذب کا ظہور میں آیا۔”سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ جو صاحبِ مسمّٰی اسمِ ذات مرشد’ امانتِ الٰہیہ’ خلافتِ الٰہیہ کے حامل اور سلطان الفقر کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اُن کا تعلق بھی خانوادہ سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے ہے’ فرمایا کرتے تھے:
”سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی سیّد عبدالرحمن جیلانی دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت فقر کی ضروریات کی تکمیل تھی۔ پس آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک دن حاضر ہوئے بیعت کی اور واپس آگئے”۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا فرمانا تھا کہ فقر میں ظاہری بیعت ضروری ہے کیونکہ اگر آپ رحمتہ اللہ علیہ سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر ظاہری بیعت نہ کرتے تو سلسلہ سروری قادری کی کڑی جو غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچتی تھی وہ ٹوٹ جاتی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ مرشدِ اتصال نہ رہتے۔ ہندوستان سے شائع ہونے والی تمام کتب آثارِدہلی، راہ نمائے مزاراتِ دہلی، مشائخِ قادریہ، مزاراتِ اولیاء دہلی اور بہت سی کتب میں جہاں سیّد عبد الرحمن دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کا تذکرہ آیا ہے اس میں بھی یہ فقرہ موجود ہے کہ آپ (سیّد عبد الرحمن دہلوی) رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور صوفی حضرت سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد ہیں۔
جن لوگوں نے حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت سے اختلاف کیا ہے یہ اُن کی تحقیق ہے جو انہوں نے اپنے علم اور موجود کتب سے کی لیکن ہماری تحقیق کا مقصد اُن کی مخالفت نہیں ہے بلکہ اُن کے کام کو مزید آگے بڑھانا ہے۔اس سلسلہ میں اتنا عرض ہے کہ محقق صرف تحقیق ہی کر سکتا ہے اور اس میں غلطی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔لیکن پھر بھی ان محققین کی بات علم کی حد تک درست ہے کیونکہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:1.سروری قادری اسے کہتے ہیں جسے خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بیعت فرماتے ہیں۔ اس کے وجود سے بدخلقی کی خوبو ختم ہو جاتی ہے اور اُسے شرع محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے۔ (محک الفقر کلاں)2.ایک اس (اعلیٰ) مرتبے کے سروری قادری ہوتے ہیں جنہیں خاتم النبیین رسولِ ربّ العالمین سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی مہربانی سے نواز کر باطن میں حضرت محی الدین شاہ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ العزیزکے سپرد کر دیں اور حضرت پیر دستگیر رحمتہ اللہ علیہ بھی اُسے اس طرح نوازتے ہیں کہ اُسے ایک لمحہ بھی خود سے جدا ہونے نہیں دیتے۔(محک الفقر کلاں)جنہوں نے ظاہری بیعت کو ردّ کیا ہے انہوں نے اویسی سلسلہ یا طریقہ کا سہارا لیا ہے۔ اویسی سلسلہ یا طریقہ موجود ہے اور ہم اس سے انکار نہیں کرتے ۔ اویسی طریقہ وہ ہے جس میں فیض براہِ راست حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یا کسی ولی کامل جو وصال پاچکا ہو’ سے ملتا ہے۔ اس میں تین طریقے ہیں:1.جن عظیم ہستیوں کو تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز کیا جاتا ہے ان کے لیے اویسی طریقہ سے براہِ راست حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فیض حاصل کرنے کے باوجود ظاہری بیعت ضروری ہے کیونکہ ان کا مرشدِ اتصال ہونا ضروری ہے۔ اس ضمن میں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ پیرانِ پیر غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جن کا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے ‘جن کو معراج کے دوران حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیعت فرمایا’ مادر زاد ولی ہیں اور جن کی مہربانی اور کرم کے بغیر کوئی فقر کی خوشبو تک کو نہیں پاسکتا، جن کو اویسی طریقہ سے سب کچھ عطا ہو چکا تھا جیسا کہ ہمعات میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:”حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعد اولیاء کرام اور اصحابِ طریقت کا سلسلہ چلتا ہے ان میں سب سے زیادہ قوی الاثر بزرگ جنہوں نے راہِ جذب کو باحسن طے کرکے نسبتِ اویسی کی اصل کی طرف رجوع کیا اور اس میں نہایت کامیابی سے قدم رکھا وہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی ذاتِ گرامی ہے۔”یعنی حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے سب کچھ اویسی نسبت سے حاصل کیا اور سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ ان ہی کو اپنا مرشد مانتے ہیں اور ”شیخِ ما” فرماتے ہیں۔ اگر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو سب کچھ اویسی طریقہ سے مل چکاتھا تو انہیں پھر ظاہری بیعت کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی حضرت شیخ مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ سے ظاہری بیعت مستند روایات کے ساتھ کتبِ سیر و تصوف میں منقول ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی بیعت اس طرح ہوئی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے مرشد حضرت شیخ ابو سعید مبارک مخزومی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں گئے۔ انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو کھانا کھلایا’ خرقہ پہنایا اور بات ختم ہوگئی۔ اسی دن سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے تلقین و ارشاد کا سلسلہ شروع فرما دیا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت بھی اسی طرح ہے اور مولوی محمد دین گجراتی کی عبارت سے ہماری اس بات کی تصدیق ہوتی ہے اور ہمارا موقف بھی یہی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنے ظاہری مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے، بیعت کی اور تمام فیض یک دم پالیا کیونکہ فقر کی تمام منازل تو آپ رحمتہ اللہ علیہ اویسی طریقے سے طے کر چکے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ تلقین و ارشاد کی مسند کے لیے ظاہری بیعت ہونی کیوں ضروری ہے تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ فقر میں سلاسل کا ایک نظام قائم کیا گیا ہے جو درجہ بدرجہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچتا ہے۔ ہر مرشد کامل کو ”شیخِ اتصال” ہونا چاہیے یعنی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک شجرۂ طریقت پہنچنے تک سلسلے کا کہیں ”انقطاع” نہیں ہونا چاہیے اورشجرۂ طریقت بابِ علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے گزر کر مدینۃ العلم حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک سلسلہ پہنچنے تک درمیان سے کوئی کڑی ٹوٹنے نہ پائے ورنہ بڑے بڑے فتنوں کے وقوع پذیر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر لوگ نبوت اور جعلی مہدی ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں تو کوئی گمراہ کسی گدی پر بیٹھ کر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اُسے براہِ راست فیض حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام یا کسی ولی سے مل گیا ہے اور اسے ظاہری بیعت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا ہے تو وہ گمراہ ہے اور اُسے جوتے مارو۔ آج کل گلی گلی جو جعلی پیر پھیلے ہوئے ہیں اُن سب کا کہنا ہے کہ اُن کو براہِ راست فیض ملا ہوا ہے اور ظاہری بیعت سے انکاری ہیں اور کچھ جدی اور پیدائشی پیر ہیں۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اور سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت رسماً اسی نسبت سے ہے۔ اور تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہونے کے لیے ظاہری بیعت ضروری ہے کیونکہ انہوں نے تلقین و ارشاد کے فرائض ادا کرنے تھے اور ایک زمانے کو فیض پہنچانا تھا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے سلسلہ نے تاقیامت قائم رہنا ہے۔ دوسری وجہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کی یہ ہے کہ مستقبل میں کوئی گمراہ آپ رحمتہ اللہ علیہ جیسی ہستیوں کو مثال بنا کر اویسی طریقہ کا سہارا لے کر مسندِ تلقین و ارشاد پر نہ بیٹھ جائے۔ تاریخ میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ہے کہ کوئی تلقین و ارشاد کی مسند پر فائز ہوا ہو اور مرشدِ اتصال نہ ہو اور ظاہری بیعت سے بے نیاز ہو ۔غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں ”مشائخِ عظام کہ جن کا سلسلہ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک تسلسل کے ساتھ پہنچتا ہے بابِ علم (حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ) سے گزر کر علم کے صدر مقام (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام) تک پہنچتا ہے، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف حکمت کے ذریعہ بلاتے ہیں”۔(سرّالاسرار فصل 5)اس عبارت سے ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے کہ صاحبِ تلقین و ارشاد ہونے کے لیے ”مرشد اتصال ”ہونا ضروری ہے۔2.دوسرا اویسی طریقہ وہ ہے’ جس میں تلقین و ارشاد کا کام نہیں لیا جاتا صرف دین کا کوئی کام لینا مقصود ہوتا ہے اس کی مثال علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی ہے جن کو مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی روح سے اویسی طریقہ سے فیض ملا حالانکہ اوائل عمری میں آپ رحمتہ اللہ علیہ قادری سلسلہ میں ظاہری بیعت بھی کر چکے تھے لیکن اپنے کلام میں کہیں بھی ظاہری مرشد کا ذکر نہیں کرتے بلکہ مولانا روم ؒ کو ہی اپنا مرشد قرار دیتے ہیں۔3.تیسرا اویسی طریقہ وہ ہے جس کے تحت ابتدائے حال میں کسی طالب کی راہِ حق میں تربیت کی جاتی ہے۔ اب اس طالب کو اس کا علم ہو یا نہ ہو یہ ضروری نہیں۔ پھر ظاہری مرشد کی بارگاہ میں مکمل تربیت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔امید ہے اس تحریر سے حضرت سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی ظاہری بیعت کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں دور ہوگئی ہوں گی۔……………………………………………………………اس تحریر میں درج ذیل حوالوں اور لنکس سے مدد لی گئی http://www.sultan-ul-arifeen.com/…/mazar-darbar-sultan…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://www.sultan-bahu.com/…/tehqeeq-zahiri-bayat…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://www.sultan-ul-arifeen.com/…/mazar-darbar-sultan…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://www.sultan-bahu.com/…/murshid-sultan-ul-faqr… ………………………………………….

بیان حضور خواجہ صاحب مدظلہم

ؓلنگر خانہ حضور شاہِ جیلانی

کلام حضرت سخی سلطان باہو سروری قادری نوراللہ مرقدہ

اسم اللہ ذات ﷻ اور اسمِ محمد ﷺ

اسم اللہ ذات

* ’’اللہ ‘‘ اسمِ ذات (Ism-e-Allah Zaat) ہے اور ذاتِ سبحانی کے لیے خاص الخاص ہے ۔
* اسمِ اللہ ذات اپنے مسمّٰی ہی کی طرح یکتا ‘ بے مثل اوراپنی حیرت انگیز معنویت وکمال کی وجہ سے ایک منفرد اسم ہے۔
* ہر چیز کا اِسم الگ ہے اور ذات الگ ہے مگر اللہ تعالیٰ چونکہ وحدہٗ لاشریک ہے اس لیے وہ اسم میں بھی اور ذات میں بھی واحداور احد ہے۔
* انسان کے اندر اسمِ اللہ ذات اور اسماء صفات کی استعداد روزِ ازل سے فطرتی طور پر موجود ہے۔ انسان جس اسم اور جس صفت سے اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرتاہے وہ اپنے اندر اسی اسم اور اسی صفت کی استعداد کو بالفعل جاری کرتا ہے، اسی کو اپنے اندر نمودار کرتا ہے اوراسی کا نور اس کے دل میں چمکتاہے۔
* انسانی ارواح کا رزق اسمِ اللہ ذات کا نور ہے جب ارواح کو ان کا رزق مل جاتا ہے تو ان کو وہ بصیرت حاصل ہو جاتی ہے جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رویت کی نعمت حاصل کرتی ہیں ۔
* ذکر اور تصورِ اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) سے باطن میں دو انتہائی مقامات لقائے حق تعالیٰ‘ اور’ مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری‘ حاصل ہوتے ہیں جو کسی دوسرے ذکر سے حاصل نہیں ہوتے۔ باطن میں اِن دو مقامات سے اعلیٰ کوئی مقام نہیں یعنی تصورِ اسمِ اللہ ذات تمام باطنی علوم کا معدن اور مخزن ہے ۔
* اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) کے ذکر کے حصول کے لیے کسی مرشدِ کامل کی راہبری اور راہنمائی ضروری ہے اور مرشد بھی وہ جو نہ صرف اسمِ اللہ ذات کے راز اور کنہہ سے واقف ہو بلکہ صاحبِ تصورِ اسمِ اللہ ذات ہو اور صاحبِ مسمّیٰ ہو۔
* صرف قیل و قال یا ظاہری تقلید اور ظاہری اشغال سے نہ اللہ تعالیٰ کی پہچان ہو سکتی ہے اور نہ ہی ظاہری کتابی علم سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نبوت اور رسالت اور اسکی مخصوص روحانی قوت یا معجزات کا پتہ لگ سکتا ہے اور نہ ہی ’’وحی‘‘ کی حقیقت اور ’’معراج‘‘ کی کنہہ اور حقیقت معلوم ہو سکتی ہے۔ اسی لیے تو ظاہری علماء نبی کے علمِ غیب، دنیا میں دیدارِ الٰہی، معراج کی حقیقت اور معجزات وغیرہ اور دیگر مسائل کے بارے میں تمام عمر جھگڑتے رہتے ہیں۔ ان تمام حقائق اور باطنی رموز سے پردہ اُٹھانے کے لیے سب سے بہترین اور آسان راستہ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات ہے ۔
* اللہ تعالیٰ کے قرب‘ مشاہدہ‘ وصال اورلقا کا راستہ بغیر ذکر وتصورِ اسمِ اللہ ذات ہرگز نہیں کھلتا ۔اللہ تک پہنچنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
* اسمِ ’’اللہ‘‘کا ذکر ایسا عمل ہے جو انسان کے دل میں نورِ ایمان پیدا کرتا ہے۔
* معرفتِ حق تعالیٰ کے لیے، روح کی ترقی و بالیدگی کے لیے، قلبِ سلیم، اطمینانِ قلب کے لیے، اپنے اندر نورِ بصیرت کی تکمیل کے لیے، رضائے الٰہی اور معراج کے لیے اسمِ اللہ ذات کی طلب کرنا اور پھر اس کا ذکر اور تصور کرنا ہر مومن اور مسلمان کے لیے لازم ہے۔ اس کے بغیر باطن میں کسی بھی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔
* اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) ہی اسمِ اعظم ہے لیکن یہ اس وقت قرار پکڑتا ہے جب مرشد کامل اکمل تلقین فرماتا ہے۔
* تصورِ اسمِ اللہ ذات سے نفسِ امّارہ قتل ہو جاتا ہے اور دل زندہ ہو جاتا ہے جس سے حضوریٔ قلب حاصل ہوتی ہے۔ جسے حضوریٔ قلب حاصل ہو اس کی ہر عبادت مقبول ہوتی ہے اور جسے حضوریٔ قلب حاصل نہ ہو اس کی ہر عبادت ریا کا درجہ رکھتی ہے۔
* ’’تصور اسمِ اللہ ذات‘‘ ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس پر چل کر پاکیزہ لوگ انعام یافتہ کہلائے کیونکہ تصور اسمِ اللہ ذات ہی سے انسان کا سینہ اسلام کی روشنی سے صحیح طور پر منور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جس نے ذکر اور تصورِ اسمِ اللہ ذات سے روگردانی کی وہ نفسِ امّارہ اور شیطان کے پھندوں میں پھنس گیا اور آخر کار گمراہ ہوا۔ دراصل نفس کا مرنا ہی دل کی حیات ہے۔
* ذکرِ اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) سے دنیا دل سے نکل جاتی ہے۔
* اسمِ اللہذات کا ذکر ہی بتائے گا کہ اللہ کی ذات کہاں جلوہ گر ہے۔
* اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) کے ذکر و تصور میں شیطانی استدراج کا گزر نہیں۔
* جو طالب ہر وقت ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات (Ism-e-Allah Zaat) کرتا رہے گا اس کے ذہن میں ہر وقت اسمِ اللہ ذات ہی رہے گا‘ وہی اس کی دلیل بنے گا۔
* تصور اسمِ اللہ ذات کے بغیر بندہ گفتار کا غازی بنتا ہے لیکن جب وہ ذکر و تصورِ اسمِ اللہ ذات کرتا ہے تو ہی وہ کردار کا غازی بنتا ہے۔
* ابتدا میں اسمِ اللہ ذا ت طالب کو توحیدِ تشبیہہ کی طرف لاتا ہے اور پھر توحیدِ تنزیہہ کی طرف لے جاتا ہے اور آخر میں دونوں یکجا ہو جاتے ہیں۔ یہی کامل توحید ہے یہاں پہنچ کر طالب خود توحید ہو جاتا ہے۔
* اللہ کی ذات انسان میں بیج کی مانند ہے۔ یہ بیج اسمِ اللہ ذات کے پانی سے پھلتا پھولتا ہے۔
* تصور اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک ذکر کامل نہ ہو۔
* ذکر و تصور اسم اللہ ذات کے بغیر فکر یا تفکر محض گمراہی ہے۔
* ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات کے بغیر تصدیق بالقلب سے کلمہ توحید پڑھنا ممکن نہیں۔
* روح اور باطن کی بیداری کے بغیر انسان نہ ہی اپنی اور نہ ہی خدا کی پہچان کر سکتا ہے۔باطن کے اس بند قفل کو کھولنے کے لیے کلید (چابی) ذکر اور تصورِاسمِ اللہ ذات کی ضرورت ہے۔
* اگر ذکرِ اللہ سے روح کو بیدار کر لیِا جائے تو امانتِ الٰہیہ جو ہمارے سینوں میں موجود ہے ، کو صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کر سکتے ہیں۔
* روح کی غذا ذکرِ اللہ ہے اور نماز بھی ذکرِ اللہ ہی ہے۔
* جسے اسم اللہ ذات مل جاتا ہے اسے دو جہان کی روشن ضمیری حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا دل باصفا اور روشن آئینہ بن جاتا ہے اور وہ دل میں اللہ تعالیٰ کے ذاتی انوار و تجلیات کے مشاہدہ سے معرفتِ حقیقی پا لیتا ہے۔
* جب تک انسان ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات میں کامل نہ ہو جائے تب تک خواہشاتِ نفسانی اور ہوا و ہوس سے خلاصی نہیں پاسکتا۔
* جب انسان ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے اعراض کرتا ہے تو اس کے وجود پر نفس اور شیطان قبضہ جمالیتے ہیں اور دل و دماغ کو اپنے قبضے اور تصرف میں لے لیتے ہیں اور سارے وجود پر اس طرح چھا جاتے ہیں جس طرح آکاس بیل پورے درخت کو گھیر لیتی ہے۔ انسان کے رگ و ریشے اور نس نس میں شیطان دھنس جاتا ہے اور اسے حق نظر نہیں آتا۔ کیونکہ اس کی باطنی روزی (روح کی غذا) تنگ ہو جاتی ہے۔
* جیسے جیسے طالب ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے‘ نفس کی اصلاح اور ترقی ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ عروج حاصل کرکے نفسِ مطمئنہ ہوجاتا ہے‘ گویا نفس اس ازلی راہزن شیطان سے نجات پا کر اپنی منزل دارالامان اور منزلِ حیات تک پہنچ کر اپنے مقصد کو پا لیتا ہے۔ ایسے نفس والا سالک اللہ تعالیٰ کا دوست اور مقرب بن جاتا ہے۔ اللہ اس سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہو جاتا ہے۔